Thursday, 12 March 2015

Urdu Post

کامیابی آپ کو دنیا آشنا کرتی هے.
ناکامی دنیا کو آپ سے متعارف کرتی هے.

گناهوں پر رونا قسمت کے رونے مکادیتاهے

یہ اللہ کا رحم هے کہ اس نے انسان کو اسکے بچوں کی بجائے والدین سے احسان کی تاکید کی. بچوں سے تو سبهی پیار کرتے هیں بس والدین بهول جاتے هیں. اللہ سے بہتر انسان کی فطرت سے کون واقف هو سکتا هے. انسان، نسیان سے ماخوذ هے جس کا مطلب هے "بهولنے والا"

بڑے ڈاڈے معیار هیں اللہ والوں کے. کہتے هیں
"جو دم غافل وہ دم کافر"
تسی بن لو مسلمان

جو تهوڑے بہت نیک عمل کرنے کی سعادت نصیب هو تو اس کی قبولیت کی فکر کریں اور اس کےشر سے بچنے کی خاص طور پر کوشش کریں. نیکی کا شر دراصل نیک هونے کے زعم میں خود کو دوسروں سے افضل تصور کرنا هے. نیک پن کا تکبر پهر گلے کا پهنده بن جاتا هے اور ابلیس اسکی سب سے موزوں اور عبرتناک مثال هے.
 
جب دل کی سنی جائے کام هوجائے تو دو نفل پڑه لیاکریں. اور اگر کام نہ هو تو چار نفل پڑهیں کیونکہ کہ آپ نےاپنی ضرورت اور عقل کو بنیاد بنا کر پهول مانگا اوراللہ نے اپنی حکمت اور رحم کو بنیاد بنا کر گلدستہ دینے کیلئے وقتی طور پر پهول روک لیا
 
نیکی کرنے والے کے سامنے جهکنا نہیں کیونکہ جهکنا صرف اللہ کے سامنے هی هے اور نیکی کرنے والے کو وسیلہ بنانے کا شکر ادا کرنا هے. یہی نہیں بلکہ نیکی کرنے والے کو خود بهی اللہ کے آگے جهکنا هو گا اور نیکی کی قبولیت مانگنی هوگی
 
کتنا وقت ضاءع هوا سکهلائ میں اور ساری سکهلائ لمحے میں ضاءع هوگئ جب اس بات کا ادراک هوا کہ میں ابهی بهی عمل کرنے کا سوچ هی رها هوں
 
دوستوں پر بهی بوجهه کم هی ڈالا هم نے
ہبت کم کجیوں کا پردہ رکهنا پڑا ان کو
جو نہ رکه سکے پردہ انکو بهی دوست رکها
کیونکہ بے خبر هتے وہ کہ هم یہ جان چکے